حوزہ نیوز ایجنسی کے صحافی سے گفتگو میں امام خمینی(ره) انسٹی ٹیوٹ کی علمی کمیٹی کے رکن حجت الاسلام و المسلمین حامد منتظری مقدم نے حضرت امام حسین علیہ السلام کے قیام کے اسباق کے ازسرِ نو پڑھنے کی ضرورت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: محرم الحرام کے دنوں اور راتوں میں حضرت سیدالشہداءعلیہ السلام کی شخصیت کی تفسیر سے غافل نہیں رہنا چاہے۔ وہ شخصیت جس نے تمام دنیاوی امور کو چھوڑ دیا اور الٰہی مطلوب کے حصول کے لیے راہِ فداکاری اور ایثار کا انتخاب کیا۔
انہوں نے کہا: جتنا زیادہ امام حسین علیہ السلام کی تحریک کے بارے میں کاوش اور گفتگو جاری رہے گی، انسان کا اس قیام کے بارے میں ادراک اتنا ہی گہرا ہوتا جائے گا۔ حسینی تحریک کے بارے میں ادراک کی گہرائی، انسان کا حضرت سید الشہداء علیہ السلام سے جذباتی تعلق کو مزید گہرا اور پختہ کرتی ہے۔

حوزہ علمیہ قم کے استاد نے مزید کہا: امام حسین علیہ السلام کی شخصیت سب سے زیادہ اس عظیم اور جاویدان تحریک کے ساتھ جڑی ہوئی ہے اور امام حسین علیہ السلام کو قیام، تحریک اور عاشورہ کے واقعہ سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ لہٰذا اس شخصیت کو عاشورہ کے واقعہ کی روشنی میں پہچانا اور تفسیر کرنا چاہیے۔
حجت الاسلام و المسلمین منتظری مقدم نے کہا: عاشورہ کا واقعہ محض ایک تاریخی واقعہ نہیں۔ عاشورہ امام حسین علیہ السلام کی شخصیت کو متعارف کرانے کا مرکزی نقطہ ہے لیکن یہ واقعہ تاریخ میں محدود نہیں رہا بلکہ یہ ایک ثقافت ساز اور فکر ساز عنصر ہے اور اس میں بلند انسانی پیغامات ہیں۔
امام خمینی(ره) انسٹی ٹیوٹ کی علمی کمیٹی کے رکن نے کہا: "حب الحسین یجمعنا" (حسین کی محبت ہمیں جمع کرتی ہے) ایک وحدت آفرین حقیقت ہے۔ ہم سب حضرت سیدالشہداءعلیہ السلام کے خیمہ کے نیچے ایک خاندان ہیں اور جیسا کہ شہید سردار حاج قاسم سلیمانی نے فرمایا تھا کہ "ہم امام حسین کی امت ہیں۔" یہ نقطہ نظر ہم آہنگی، ربط اور اختلافات سے عبور کرنے کا مرکز بن سکتا ہے۔









آپ کا تبصرہ